اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عربی پورٹل"الخبر پریس" نے لکھا ہے کہ نجران کے سرحدی علاقے اور سعودی عرب کی سر زمین کے کچھ قبایل کے سرگرم سیاسی جوانوں نے سعودی عرب پر حکمران خاندان آل سعود کے خلاف سب سے پہلی سیاسی اور فوجی تنظیم بنائی ہے جس کا نام "احرار نجران" رکھا ہے ۔
ابو بکر احمد السلامی نے اس سلسلے میں بتایا : نجران کے سرگرم سیاسی جوان یمن کی انقلابی کمیٹیوں اور یمن میں اپنے پڑوسیوں اور بھائیوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان میں کچھ جوانوں کو فوجی ٹریننگ دیں ۔ اس نے تاکید کی کہ مذکورہ تحریک نجران کے تمام قبایل پر مشتمل ہے ۔
انہوں نے بات آگے بڑھائی کہ نجران کی تحریک احرار جنوب نجران کے سعودی عرب کی غاصب فوج کے قبضے والے علاقے میں پہلی فوجی کاروائی کرے گی ۔
دوسری جانب نجران کے قبایل نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے آل سعود سے وابستہ مسلح افراد اور فوجیوں کو نجران کے کچھ علاقوں میں نشانہ بنایا ہے۔گذشتہ منگل کے دن سے اس صوبے کے کچھ علاقوں میں زبر دست جھڑپیں شروع ہو چکی ہیں ۔
نجران کے قبایل نے چند روز پہلے آل سعود کی حکومت کے خلاف جنگ کا اعلان کر کیا اور گذشتہ تمام معاہدوں کے سلسلے میں اس حکومت پر خیانت کرنے کا الزام لگایا ہے ۔نجران کے قبایل اس علاقےکی آزادی اور اس کے سعودی عرب کی حکومت سے علاحدگی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔
چند روز پہلے قبایل یام اور ولد کے سر براہ شیخ عبد اللہ فوزی اکرم نے اس علاقے کے قبایل کی سعودی عرب سے الگ ہونے کی کوششوں کے بارے میں بتایا ۔ اس نے اعلان کیا کہ نجران کے قبایل ماہ مبارک رمضان کے آغاز میں اپنی مشترکہ بیٹھک میں ایک بار پھر سعودی عرب سے جدائی پر زور دیں گے ۔
شیخ اکرم نے بتایاکہ سعودی عرب کی فوج نجران کے علاقے کو موٹر بمب اور میزایل سے نشانہ بنا رہی ہے اور اس کا جھوٹا الزام یمن والوں پر لگا رہی ہے ۔اس نے تاکید کی کہ جنوب نجران کے کچھ قبایل سعودی عرب کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے یمن کی فوجوں کے ساتھ مل گئے ہیں اور سعودی عرب کی مرکزی حکومت کے تسلط سے نجران کی آزادی قطعی ہے ،اور بے شک ایسا ہو کر رہے گا ۔
نجران کے ساتھ عسیر اور جیزان کے علاقے ،۱۹۳۴ میں سعودی عرب کی بنیاد پڑنے کے بعد اور براہ راست برطانیہ کے بھڑکانے سے اور ۱۹۳۲ میں ان علاقوں پر فوجی حملوں کے ذریعے سعودی عرب کے قبضے میں آئے تھے ۔ سال ۱۹۶۵ میں سعودی عرب کی طرف سے نجران کو نیا شہر بنایا گیا تھا اور اس وقت وہ سعودی عرب کی کھیتی باڑی اور تجارت کا اہم ترین علاقہ ہے اور اس میں ایک مقامی ہوائی اڈہ بھی ہے شہر نجران کا حدود اربعہ ایک لاکھ انیس ہزار مربع میٹر ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲